امام محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی
اس امت میں بہت سے اللہ والے گزرے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے چیزوں کی حقیقت اور کائنات کے رازوں کا علم عطا فرمایا۔ ان بزرگ ہستیوں میں امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا مقام بہت بلند ہے۔ آپ نہ صرف ایک بڑے ولی تھے بلکہ تعبیرِ خواب میں بھی بے مثال مہارت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خوابوں کی تعبیر کے علم میں آپ جیسا مقام بہت کم لوگوں کو حاصل ہوا۔
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں اگر کسی شخص نے ایسا خواب دیکھا جس کی تعبیر دوسرے علماء اور نیک لوگ نہ بتا سکتے، تو آخر میں وہ آپ سے رجوع کرتے تھے۔ آپ جو تعبیر بتاتے، وہ درست ثابت ہوتی، یہاں تک کہ بڑے بڑے علماء بھی آپ کی بصیرت اور فراست کی تعریف کرتے تھے۔
امام سیوطی کے مطابق، امام ذہبی نے ہر علم کے نمایاں اور بہترین لوگوں کی ایک فہرست بنائی ہے۔ اس فہرست میں امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کو تعبیرِ خواب کے سب سے ممتاز عالم کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
| فن | فن کے ماہرین |
|---|---|
| تفسیر | ابن عباس رضی اللہ عنہ |
| بہادری | حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ |
| تعبیر خواب | محمد بن سیرین |
| ترغیب وتذکیر | امام حسن بصری |
| قراءت | نافع مدنی |
| فقہ | امام اعظم حضرت ابو حنیفہ |
| نحو | امام سیبویہ |
| فقہ حدیث | امام شافعی |
| سنت | امام احمد بن حنبل |
| نقدِ حدیث | امام بخاری |
| تصوف | جنید بغدادی |
| کلام | امام ابو الحسن اشعری |
زندگی کا ابتدائی دور
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ آپ کی والدہ صفیہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھیں۔ آپ کی کنیت ابوبکر تھی، اور آپ نے کافی عرصہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے کاتب (سیکرٹری) کے طور پر خدمت انجام دی۔
آپ کی زندگی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت اور بلند مقام عطا فرما دیتا ہے۔ ایک عام غلام ہونے کے باوجود آپ علم، تقویٰ اور خاص طور پر تعبیرِ خواب کے میدان میں ایسے بلند مقام پر پہنچے کہ آپ کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔
آپ کی پیدائش بصرہ کے قریب جرجرایا نامی مقام پر ہوئی۔ بعد میں آپ بصرہ میں رہائش اختیار کر لی۔ آپ کے چھوٹے بھائی، انس بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، امام محمد بن سیرین کی ولادت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تقریباً دو سال پہلے ہوئی، جبکہ ان کی اپنی پیدائش ایک سال بعد ہوئی۔
تقویٰ اور خشیتِ الٰہی
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والے بزرگ تھے۔ آپ مشہور تابعی تھے اور اپنے تقویٰ، اچھے اخلاق اور علم کی وجہ سے بہت بلند مقام رکھتے تھے۔
ابن عون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے تین ایسے بزرگ دیکھے جن کی مثال نہیں ملتی: امام محمد بن سیرین، قاسم بن محمد اور رجاء بن حیوہ رحمہم اللہ۔
خلف بن ہشام کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے امام ابن سیرین کو بہترین اخلاق، نرم مزاجی، عاجزی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک عطا فرمایا تھا۔ آپ کو دیکھ کر لوگوں کو اللہ یاد آ جاتا تھا۔
اشعث رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب امام ابن سیرین سے حلال و حرام کے بارے میں کوئی سوال کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، کیونکہ آپ دین کے معاملات میں بہت محتاط تھے۔
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کے سامنے موت کا ذکر ہوتا تو آپ پر خوفِ الٰہی اس قدر طاری ہو جاتا کہ آپ خاموش اور بے حس سے ہو جاتے۔
مہدی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مجلس میں علمی گفتگو ہو رہی تھی۔ اچانک کسی نے موت کا ذکر کیا تو امام ابن سیرین کا چہرہ زرد پڑ گیا اور آپ پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی جیسے سخت بیماری میں ہو۔ کافی دیر بعد موضوع بدلنے پر آپ کی طبیعت سنبھلی۔
امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بصرہ کے لوگوں میں امام محمد بن سیرین سب سے زیادہ متقی تھے۔ بعض علماء نے تقویٰ کے اعتبار سے انہیں امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ پر بھی فضیلت دی ہے۔
کمالِ تقویٰ کی ایک نادر مثال
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی تقویٰ اور دیانت کی بہترین مثال تھی۔ جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے تقویٰ کی وجہ سے قید کی آزمائش برداشت کی، اسی طرح امام ابن سیرین کو بھی ایک موقع پر قید کا سامنا کرنا پڑا۔
ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ امام ابن سیرین نے تجارت کے لیے چالیس ہزار درہم کا اناج خریدا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس اناج کی پیداوار میں کچھ ایسے طریقے استعمال ہوئے تھے جو شرعاً مشکوک تھے۔
یہ جاننے کے بعد انہوں نے سارا اناج غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا اور اس کی قیمت اپنے ذمے قرض کے طور پر قبول کر لی۔ جب مقررہ وقت پر قرض ادا نہ ہو سکا تو قرض دینے والی خاتون نے عدالت میں دعویٰ کر دیا، جس کے نتیجے میں آپ کو قید کر دیا گیا۔
امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے قید کو قبول کیا اور اس وقت تک جیل میں رہے جب تک پورا قرض ادا نہیں کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ان کے غیر معمولی تقویٰ، دیانت اور حلال و حرام کی سخت پابندی کا واضح ثبوت ہے۔
امام ابن سیرین کے اساتذہ
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام اور بڑے تابعین سے علم حاصل کیا۔ شیخ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں آپ کے اساتذہ کے نام ذکر کیے ہیں۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں حضرت انس بن مالک، حضرت حسن بن علی، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو سعید خدری، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت جندب بن عبداللہ بجلی، حضرت رافع بن خدیج، حضرت سمرہ بن جندب، حضرت عمران بن حصین، حضرت کعب بن عجرہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حضرت ابو درداء، حضرت ابو قتادہ، حضرت عثمان بن ابی العاص، حضرت ابو بکرہ ثقفی اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
اسی طرح آپ نے کئی ممتاز تابعین سے بھی علم حاصل کیا، جن میں حمید بن عبدالرحمن حمیری، عبداللہ بن شفیق، عبدالرحمن بن ابی بکرہ، عبیدہ سلمانی، قیس بن عباد، کثیر بن افلح، مسلم بن سیار، یونس بن جبیر، ابو مطلب جرمی، مہلب، حفصہ، یحییٰ بن ابی اسحاق حضرمی اور خالد حذاء رحمہم اللہ شامل ہیں۔
ان بزرگوں کے علاوہ بھی امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے نامور تابعین سے علم اور حدیث حاصل کی، جس کی وجہ سے آپ اپنے زمانے کے بڑے علماء میں شمار ہونے لگے۔
امام ابن سیرین کے شاگرد
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی جماعت نے علم حاصل کیا۔ آپ کے مشہور شاگردوں میں ایوب سختیانی، خالد حذاء، داؤد بن ابی ہند، عبداللہ بن عون، یونس بن عبید، جریر بن حازم، اشعث، حبیب بن شہید، عاصم احول، عوف اعرابی، قتادہ، سلیمان تیمی، قرہ بن خالد، مالک بن دینار، مہدی بن میمون، امام اوزاعی اور علی بن زید بن جدعان رحمہم اللہ شامل ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ امام محمد بن سیرین نے حضرت عمران بن حصین، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کیں، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے براہِ راست کوئی حدیث روایت نہیں کی۔
خالد حذاء رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب امام ابن سیرین کسی روایت کے بارے میں فرماتے تھے کہ "مجھے ابن عباس سے پہنچی ہے”، تو اس سے مراد یہ ہوتا تھا کہ انہوں نے وہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے سنی تھی، جن سے ان کی ملاقات مختار ثقفی کے زمانے میں ہوئی تھی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، امام محمد بن سیرین نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں حج کیا۔ اسی سفر کے دوران آپ نے حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے احادیث بھی روایت کیں۔
امام ابن سیرین کی ثقاہت اور علمی مقام
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے نہایت معتبر، سچے اور قابلِ اعتماد عالم تھے۔ محدثین اور فقہاء نے آپ کی دیانت، علم، تقویٰ اور مضبوط حافظے کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔
شیخ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام ابن سیرین علم میں کامل، حدیث میں انتہائی ثقہ، تعبیرِ خواب کے امام، اور ورع و تقویٰ کے بلند مقام پر فائز تھے۔ آپ اپنے مضبوط کردار اور ثابت قدمی کی وجہ سے بہت ممتاز تھے۔
مورق عجلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ورع، فقہ اور احتیاط میں امام ابن سیرین جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ امام ابن سیرین جیسی صلاحیت کسی اور میں کہاں! وہ دین کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے، گویا تلوار کی دھار پر چل رہے ہوں۔
شعبی رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ امام ابن سیرین کی صحبت اختیار کرو، کیونکہ ان سے علم اور عمل دونوں سیکھنے کو ملتے ہیں۔
عبداللہ بن عون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام ابن سیرین حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے۔ وہ روایت کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے اصل الفاظ ہی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
ہشام بن حسان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں امام ابن سیرین سے زیادہ سچا اور قابلِ اعتماد راوی نہیں دیکھا۔
ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام ابن سیرین نہایت ثقہ، بلند مرتبہ اور جلیل القدر امام تھے۔
ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مشہور شاگردوں میں امام ابن سیرین بھی شامل تھے۔
ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ امام ابن سیرین کو جس پہلو سے بھی دیکھو، وہ ہر اعتبار سے دیانت دار، متقی اور اپنے نفس پر قابو رکھنے والے تھے۔
عبداللہ بن عون رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراق میں امام ابن سیرین، حجاز میں قاسم بن محمد اور شام میں رجاء بن حیوہ جیسے بزرگ دیکھے، لیکن ان تینوں میں بھی امام ابن سیرین سب سے ممتاز تھے۔
عثمان تیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بصرہ میں امام محمد بن سیرین سے زیادہ قضا اور فقہ کا علم رکھنے والا کوئی عالم نہیں گزرا۔
علمِ حدیث میں امام ابن سیرین کا بلند مقام
علمِ حدیث میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ حدیث یا واقعہ اسی شخص سے روایت کیا جائے جس نے خود رسول اللہ ﷺ کو وہ بات فرماتے یا وہ عمل کرتے دیکھا ہو۔ اگر راوی نے براہِ راست نبی کریم ﷺ کو نہ دیکھا ہو، تو وہ اپنے سے اوپر تمام راویوں کے نام ترتیب کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اسے سند کہا جاتا ہے۔
محدثین صرف روایت نقل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر راوی کی زندگی کا بھی جائزہ لیتے تھے۔ وہ یہ تحقیق کرتے تھے کہ راوی دیانت دار اور سچا ہے یا نہیں، اس کا حافظہ کیسا ہے، دین داری، تقویٰ، سمجھ بوجھ اور کردار کی کیا حالت ہے، تاکہ صرف صحیح اور قابلِ اعتماد احادیث ہی آگے پہنچیں۔
یہ کام بہت مشکل تھا، لیکن محدثین نے اپنی پوری زندگیاں اسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ وہ مختلف شہروں اور دیہات کا سفر کرتے، راویوں سے ملتے، ان کے حالات معلوم کرتے اور ان کی سچائی و امانت کی تحقیق کرتے تھے۔
حدیث کی حفاظت کے لیے انہوں نے کسی شخص کے عہدے یا مقام کی پرواہ نہیں کی۔ چاہے وہ حکمران ہو یا کوئی بڑا عالم، اگر اس کی روایت کی جانچ ضروری ہوتی تو اس کے حالات کا بھی غیر جانبداری سے جائزہ لیا جاتا۔ اسی محنت کی بدولت آج احادیثِ نبویہ محفوظ شکل میں امت تک پہنچی ہیں۔
روایتِ حدیث میں امام ابن سیرین کا اصول
امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ حدیث کے بڑے اماموں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نہ صرف خود احادیث روایت کرتے تھے بلکہ ان کی تحقیق اور جانچ میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔
آپ نے روایتِ حدیث کے لیے ایک اہم اصول اختیار کیا۔ آپ فرماتے تھے کہ حدیث صرف اہلِ سنت والجماعت کے قابلِ اعتماد علماء سے لی جائے۔ روافض، خوارج، معتزلہ اور دیگر اہلِ بدعت کی روایات کو قبول نہ کیا جائے، تاکہ دین میں غلط باتیں شامل نہ ہوں۔
امام شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ امام ابن سیرین نے فرمایا:
شروع میں لوگ حدیث بیان کرتے وقت سند پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے، لیکن جب مختلف فتنے پیدا ہوئے اور اہلِ بدعت بھی احادیث بیان کرنے لگے، تو ہم نے راویوں کی جانچ شروع کی۔ ہم اہلِ سنت کی روایات قبول کرتے اور اہلِ بدعت کی روایات کو قبول نہیں کرتے تھے۔
یہ اصول علمِ حدیث کی حفاظت کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ اگر اس زمانے میں راویوں کی تحقیق اور جانچ کا یہ طریقہ اختیار نہ کیا جاتا، تو آج صحیح اور ضعیف یا من گھڑت روایات میں فرق کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔
امام محمد ابن سیرین کی وفات
زندگی کے آخری دنوں میں امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے دنیا کے کاموں سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ آپ زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن، ریاضت اور مجاہدے میں گزارتے تھے۔
اسی دوران آپ شدید بیمار ہو گئے۔ آخرکار 4 شوال 110 ہجری کو یہ عظیم عالم، محدث اور معبرِ خواب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
محمد بن زید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال یکم رجب 110 ہجری کو ہوا، اور وہ ان کے جنازے میں شریک تھے۔ اس کے تقریباً سو دن بعد امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے بھی 77 سال کی عمر میں وفات پائی۔
آپ کی وفات سے امت ایک ایسے عظیم عالم سے محروم ہو گئی جس نے علمِ حدیث، فقہ، تقویٰ اور خصوصاً تعبیرِ خواب کے میدان میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام روشن کر دیا۔