Khawab ki Tabeer – Khawab Nama

حروف تہجی کی ترتیب سے خوابوں کی تعبیر دیکھیں


خواب کی تعبیر (Khawab ki Tabeer) کی اہمیت

خواب ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ انسان ہمیشہ سے خواب کی تعبیر (Khawab ki Tabeer) کو اہمیت دیتا آیا ہے۔ ہمیں خواب میں کبھی خوشخبری ملتی ہے، کبھی تنبیہ اور کبھی اور اشارہ۔ اسلامی نقطۂ نظر سے بھی خواب کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ بعض خوابوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور بشارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعبیر الرؤیا ایک مستقبل علم کی حیثیت رکھتا ہے جس میں علامتوں، حالات اور خواب دیکھنے والے کی کیفیت کو مد نظر رکھ کر تعبیر بتائی جاتی ہے۔

خوابوں کی تعبیر (khawabon ki tabeer) کا علم اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام شریعت کے احکام میں اپنے خوابوں کو وحی شمار کرتے تھے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ [12:6]

ترجمہ: اسی طرح تمہارا رب تمہیں (بزرگی کے لئے) منتخب فرما لے گا اور تمہیں باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی تعبیرِ خواب کا علم) سکھائے گا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:

لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ [10:64]

ترجمہ: ان کے لئے دنیا کی زندگی میں (بھی عزت و مقبولیت کی) بشارت ہے اور آخرت میں (بھی مغفرت و شفاعت کی/ یا دنیا میں بھی نیک خوابوں کی صورت میں پاکیزہ روحانی مشاہدات ہیں اور آخرت میں بھی حُسنِ مطلق کے جلوے اور دیدار)۔ (طاہر القادری)

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں ﴿الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ سے وہ مبشرات (ایسا خواب جس میں کوئی خوشخبری دی گئی ہو) مراد ہیں جو دنیا میں انسان خوابوں کی صورت میں خود دیکھتا ہے، یا کوئی دوسرا شخص اس کے لیے دیکھتا ہے۔ اور وَفِي الْآخِرَةِ سے مراد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے۔

اسی طرح آنحضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:” لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ، قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟، قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ”.

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6990]

اسی طرح روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”اے ابو بکر! میں نے ایسے دیکھا ہے کہ جیسے میں اور تم ایک سیڑھی پر چڑھ رہے ہوں، اور میں تم سے ڈھائی سیڑھیاں آگے نکل گیا۔“ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”“۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لیں گے اور میں آپ کے بعد ڈھائی سال تک زندہ رہوں گا۔“ (ابن سعد، الطبقات الكبرى)

خواب کی قسمیں

khawab ki qismen

خواب کی تین قسمیں ہیں:

  1. مبشرات: وہ خواب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو رؤیا صالحہ (نیک خواب) بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا تذکرہ حدیث پاک میں بھی آیا ہے۔
  2. ڈراؤنے خواب: یہ خواب شیطان کی وجہ سے نظر آتے ہیں۔ ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی کوئی حقیقت ہوتی ہے۔
    حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کٹ کر میرے آگے آگے جا رہا ہے اور میں اس کے پیچھے چل رہا ہوں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شیطان انسان کے ساتھ خواب میں کھلواڑ کرتا ہے، تو انسان کو چاہیے کہ ایسی بات کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے۔“

برے اور ڈراؤنے خواب سے حفاظت کے لیے نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا سکھائی ہے:

اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَمِنْ شَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَنْ يَحْضُرُونِ۔ (ابوداؤد وترمذی)

ترجمہ: “میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے اس کے غضب، اس کے عذاب، اس کے بندوں کے شر، شیطانوں کے وسوسوں اور ان کے میرے پاس آنے سے پناہ مانگتا ہوں۔”

  1. حدیثِ نفس: انسان دن بھر جن چیزوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے، نیند میں انہی چیزوں کے بارے میں خواب آتے ہیں۔
    اس طرح کے خوابوں میں یہ ہوتا ہے کہ کسی انسان کسی سے شدید محبت کرتا ہے تو خواب میں اس کو دیکھے گا۔
    یا ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی سے بہت ڈرتا ہے اور اسی کا خیال ذہن پر سوار رہتا ہے تو خواب میں اسی شخص کو دیکھے گا۔
    یا بھوک کی حالت میں سوگیا تو خواب میں دیکھے گا کہ وہ کچھ کھا رہا ہے۔
    یا پیٹ بھر کر کھا لیا تو خواب میں خود کو قے یا الٹی کرتے ہوئے دیکھے گا۔
    یا تیز دھوپ میں سو جائے تو اپنے آپ کو آگ میں جلتا ہوا دیکھے گا۔
    یا جسم کے کسی حصے میں درد ہو تو خواب میں خود کو کسی عذاب میں مبتلا دیکھے گا۔
    تو ان جیسے خوابوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

اس کے علاوہ حدیث نفس، وہم، احتلام، شیطان کی طرف سے دکھائے جانے والے خواب، ڈراؤنے خوابوں، جنات کی طرف سے دکھائے جانے والے خوابوں، یا طبیعت میں کسی خاص پریشانی یا معاملے کی وجہ سے نظر آنے والے خوابوں کی تعبیر نہیں ہوتی۔

سچے خواب کون سے ہوتے ہیں؟

تعبیر کے اعتبار سے سب سے بہترین خواب مبشرات ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا انسان پر سکون ہو، طبیعت میں بے چینی نہ ہو، صاف لباس پہنا ہو، اچھی خوراک کھائی ہو، اور خود بھی صحت والا ہو، بیمار نہ ہو۔ تو ایسے خواب اکثر سچے ہوتے ہیں۔

تعبیر کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سچا اور با معنی خواب بہت مختصر یعنی چند سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں خواب دیکھنے والے کو کوئی نشانی یا علامت نظر آتی ہے۔جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند سورج انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔

اچھے خوابوں کی قسمیں

اچھے خوابوں کی پانچ قسمیں ہیں:

  1. پہلی قسم: وہ رویائے صادقہ (true dreams) ہیں جو دن کے سورج کی طرح واضح ہوا کرتے ہیں۔ خوابوں کی یہ قسم نبوت کا جز کہلاتی ہے, جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلَنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ اٰمِنِيْنَ [48:27]
    بیشک اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حقیقت کے عین مطابق سچا خواب دکھایا تھا کہ تم لوگ، اگر اﷲ نے چاہا تو ضرور بالضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے امن و امان کے ساتھ۔ (طاہر القادری)
    تفسیر : اس کی یہ ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ حدیبہ تشریف لے جانے لگے تو آپ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ بغیر خوف مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں، بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں، قربانی کر رہے ہیں، بعض حلق اور بعض قصر کر رہے ہیں ۔
    اس خواب میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست بشارت دی گئی ۔
  2. دوسری قسم: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا وہ خواب سب سے اچھا خواب ہے جس میں تم اپنے آپ کو دیکھو، پیارے نبی ﷺ کو دیکھو یا اپنے والدین کو حالتِ اسلام میں دیکھو“۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ ”کیا کوئی شخص اپنے رب کو دیکھ سکتا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بادشاہ، بادشاہ کی تعبیر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔“
  3. تیسری قسم: وہ خواب ہے جو خوابوں پر مامور فرشتہ ”صدیقون“ اللہ کے دیے ہوئے علم کے ذریعے لوگوں کو دکھاتا ہے۔
  4. چوتھی قسم: خواب کی اس قسم میں مختلف طرح کے اشارے اور رموز نظر آتے ہیں۔ مثلاً خواب میں دیکھا کہ کوئی فرشتہ اس سے کچھ کہہ رہا ہے، تو فرشتے کے اس قول کے مطابق اس کی تعبیر کی جائے گی۔
  5. پانچویں قسم: یہ وہ خواب ہوتے ہیں جو بظاہر عجیب ہوتے ہیں لیکن اس میں کوئی نشانی ہوتی ہے، اور وہ نشانی غالب آجائے تو برے خواب کو اچھے خواب میں اور اچھے خواب کو برے خواب میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مثلاً کسی نے دیکھا کہ وہ مسجد میں ڈھول بجا رہا ہے، تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ گناہوں اور برے کاموں سے توبہ کرے گا اور سب کو یہ بات پتہ چل جائے گی۔
    دوسری مثال یہ ہے کہ کسی نے دیکھا کہ وہ غسل خانے میں قرآن پڑھ رہا ہے، یا وہاں ناچ رہا ہے، تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ گناہ اور غلط کام کرے گا اور اس میں مشہور ہوگا۔
    ان دونوں خوابوں میں نشانی یہ ہے کہ مسجد میں فرشتے داخل ہوتے ہیں، اور غسل خانے میں انسان کے پوشیدہ اعضا کھلے ہوتے ہیں اور وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

کس وقت کا خواب سچا ہوتا ہے؟

زیادہ رات کے آخری پہر میں دیکھے جانے والے خواب سچے ہوتے ہیں، اور دن میں دیکھنے جانے والے خواب بھی سچے ہوتے ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قیلولہ (دوپہر کے وقت مختصر اور ہلکی نیند) میں دیکھے جانے والے خواب زیادہ تر سچے ہوتے ہیں۔

علاقہ بدل جائے تو تعبیر بھی بدل جاتی ہے

مثلاً ایک آدمی کسی گرم علاقے میں برف، تیز ہوا یا سخت سردی دیکھتا ہے تو دلیل ہے کہ مہنگائی ہوگی اور قحط آئے گا۔ اگر یہی خواب کوئی شخص ٹھنڈے علاقے میں دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ خوشحالی آئے گی اور مال بڑھے گا۔

سچا خواب کیسے دیکھے؟

جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کے خواب سچے ہوں تو اس کو چاہیے کہ سچ بولنے کی عادت ڈالے۔ کوئی شخص خود تو جھوٹ بولتا ہے لیکن جھوٹ کو برا سمجھتا ہے تو اس کے خواب میں سچے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر جھوٹ کو برا نہیں سمجھتا تو اس کے خواب کبھی سچے نہیں ہو سکتے۔

با وضو سونے سے بھی خواب سچے ہوتے ہیں۔

اگر خواب دیکھنے والا نیک اور پاکدامن نہیں ہے تو ایسا شخص خواب تو دیکھے گا مگر یاد نہیں رکھ سکے گا۔ نیت کی کمزوری، گناہوں کی زیادتی، غیبت اور چغلی کی وجہ سے خواب یاد نہیں رہتے۔

ایک مرتبہ دو آدمیوں نے خواب میں اذان دی۔ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے ان میں سے ایک شخص کی نیک ہونے و تقویٰ کو دیکھتے ہوئے فرمایا: “تم حج کرو گے۔” اس کی دلیل قرآنِ مجید کی یہ آیت ہے:

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ۔۔۔ (سورة الحج: ٢٧)

جبکہ دوسرے شخص کے حالات اس کے الٹ تھے، تو آپ نے فرمایا: “تم چوری کے جرم میں پکڑے جاؤ گے۔” اس پر قرآنِ مجید کی یہ آیت پیش کی:

ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ۔۔۔ (سورة يوسف: ۷۰)

اپنا خواب کس کے سامنے بیان کیا جائے

اپنا خواب کسی عالم یا کسی خیر خواہ کے سامنے بیان کر سکتے ہیں، کسی کم علم یا جاہل کے سامنے اپنا خواب بیان نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح دشمن کو اپنا خواب نہیں بتانا چاہیے۔

تعبیر معلوم کرنے کا طریقہ

علماء نے لکھا ہے کہ کتابوں سے تعبیر تلاش کرنا درست نہیں، اس لیے کہ تعبیر میں خواب دیکھنے والے کی شخصیت، مزاج، احوال اور اس کے علاوہ بہت سی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا محض کتاب دیکھنے سے خواب کی صحیح تعبیر معلوم نہیں کی جا سکتی۔ جس طرح کتاب دیکھ کر کوئی مریض اپنے مرض کے لیے دوا متعین نہیں کرتا، کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، اسی طرح تعبیر کے لیے کسی ماہر تعبیر بتانے والے سے پوچھنا چاہیے۔

تعبیر کس سے پوچھیں:

ایک مرتبہ دو آدمیوں نے خواب میں اذان دی۔ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے ان میں سے ایک شخص کی نیک ہونے و تقویٰ کو دیکھتے ہوئے فرمایا: “تم حج کرو گے۔” اس کی دلیل قرآنِ مجید کی یہ آیت ہے:

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ۔۔۔ (سورة الحج: ٢٧)

جبکہ دوسرے شخص کے حالات اس کے الٹ تھے، تو آپ نے فرمایا: “تم چوری کے جرم میں پکڑے جاؤ گے۔” اس پر قرآنِ مجید کی یہ آیت پیش کی:

ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ۔۔۔ (سورة يوسف: ۷۰)

اگر برا خواب دیکھے تو کیا کرے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، جبکہ برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اپنے بائیں جانب تین مرتبہ ہلکا سا تھتکارے، اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے، تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔

امام نابلسی فرماتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے خواب بیان کیا کہ میں نے ایک بھٹی دیکھی جس میں آگ اور بہت ساری لکڑیاں دیکھی تو میں نے تعبیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھٹی کی تعبیر تیرا پیٹ اور لکڑیاں گذشتہ رات کھائی ہوئی ثقیل اور بھاری غذا ہے تو اس نے کہا بالکل ایسا ہی ہے۔

تعبیر پوچھنا چاہیے یا نہیں؟

خواب کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض سچے ہوتے ہیں اور بعض مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں۔ اگر خواب کی تعبیر معلوم کرنی ہو تو کسی ماہر معبّر سے پوچھنی چاہیے، کیونکہ تعبیر ایک باقاعدہ فن ہے جو قرآن، سنت، لغت اور محاورات کے اصولوں پر مبنی ہے۔ نبی اکرم ﷺ بھی فجر کے بعد صحابۂ کرامؓ سے خواب پوچھتے اور ان کی تعبیر بیان فرماتے تھے۔

ہاں اگر کوئی شخص خواب دیکھے اور اس Khawab ki Tabeerنہ پوچھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔