خواب میں شہر دیکھنا
(1) خواب میں شہروں میں سے کسی شہر میں داخل ہونا بے خوف ہونے کی دلیل ہے، ابنِ سیرین رحمہ اللہ شہر میں داخلہ کو پسند کرتے تھے اور خروج کو ناپسند کرتے تھے اس لئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : (فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ) (القصص 21) ”یعنی پس موسی وہاں سے نکل گئے اور وحشت کی حالت میں اور یہ کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو ان ظالم لوگوں سے بچا لیجئے“، بعض کہتے ہیں کہ شہر کی تعبیر عالم آدمی سے بھی کی جاتی ہے کیوں کہ حضور ﷺکا ارشاد ہے: (انا مدینۃ العلم وعلی بابہا) ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں“۔
(2) خواب میں شہر میں داخل ہو کر اس کو ویران دیکھنا اس شہر سے علماء کے نا پید ہونے کی دلیل ہے، بعض کہتے ہیں کہ شہر اس شہر کے حاکم کی موت ہے یا اس کا اس شہر میں ظلم کرنا ہے۔
(3) خواب میں کسی بھی شہر کو حاکم کے بغیر دیکھنا غلہ کے مہنگا ہونے کی دلیل ہے۔
(4) معلوم ومعروف شہر کی تعبیر دنیا ہے۔
(5) اور نا معلوم شہر کی تعبیر آخرت ہے۔
(6) خواب میں شہر کو منہدم دیکھنا اس کے اہلیان کے دین ومذہب ختم ہونے پر دلالت کرتا ہے اور انسان کا وہ شہر جس کی طرف وہ منسوب ہے اس کے والد کی دلیل ہے۔
(7) جو دیکھے کہ شہر زلزلوں سے ویران ہوا ہے تو اس کے والد مقتول ہوں گے۔
(8) اور جو دیکھے کہ شہر صعید میں ہے تو اس کی زندگی تنگ ہو گی اور محروم ہو گا یا اس کی امانت زیادہ ہو گی۔
(9) خواب میں خود کو کسی شہر میں دیکھنا نعمت سے نوازے جانے کی دلیل ہے۔
(10) جو دیکھے کہ وہ حبشہ کے شہر وعلاقہ میں ہے تو دلیل ہے ہیبت ورعب کم ہو گا۔
(11) جو دیکھے کہ وہ مصر میں ہے تو اللہ تعا لی اس کی زندگی خوشگوار اور اچھی بنا دیں گے اور اس کی عمر طویل فرما دیں گے۔
(12) جو دیکھے کہ وہ عرش کے شہر وملک میں ہے تو یہ کثرتِ خیر کی دلیل ہے۔
(13) جو دیکھے کہ وہ قسطنطنیہ میں ہے تو یہ مالی خسارہ کی علامت ہے۔
(14) اور جو دیکھے کہ وہ قدس کے علاقہ اور طورِ سینا کے پہاڑ میں ہے خوشحالی ہو گی تو سختی زیادہ ہو گی مگر دین میں قوت آئے گی۔
(15) جو دیکھے کہ وہ بلادِ مشرق میں ہے تو اسے خیر حاصل ہو گی۔
(16) اور جو دیکھے اس نے بغداد کو سامنے سے دیکھا ہے تو وہ حاکم کے پاس آئے گا کیونکہ بغداد امام کا گھر ہے اور جو دیکھے کہ وہ اردن میں ہے تو سفر یا ذلت ہو گی۔
(17) جو خود کو دمشق میں دیکھے تو اللہ تعالی اس کو رزق عطا فرمائیں گے۔
(18) جو اپنے آپ کو خواب میں بلادِ روم میں دیکھے تو وہ اللہ تعالی پر اعتماد وبھروسہ کرنے والا ہے، بلادِ ارمن کی بھی یہی تعبیر ہے۔
(19) جو دیکھے کہ وہ انگریزوں کے علاقہ یا ملک میں ہے تو دلیل ہے بصیرت ختم ہو گی۔
(20) جو دیکھے کہ وہ بلادِ نجم میں ہے تو بے حیائی سیکھے گا۔
(21) اور جو خود کو بلا دھند میں دیکھے تو دشمن پر غلبہ اور حاسدین پر کامیابی ملے گی۔
(22) جو دیکھے کہ وہ ویران وبے آباد جگہ میں ہے تو ایسی قوم کے ساتھ مبتلا ہو گا جن کے ساتھ مقابلہ کی اس میں طاقت نہیں ہو گی۔
(23) جو دیکھے کہ وہ نمک کی کان میں یا گندھک کی جگہ میں ہے تو وہ بیمار ہو گا کہ بلد (شہر) قصبہ کی بھی دلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (لا اقسم بہذا البلد) (البلد) یعنی میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں، شہرِ خوف سے امن کی دلیل ہے۔
(24) خواب میں شہر دیکھنا تو بہ ومغفرت کی بھی علامت ہے، اقلیم دیکھنا اس کے والی وحاکم وسلطان یا اس کے عالم کی دلیل ہے۔
(25) اگر خواب میں انسان شہر کا مالک ہوا ہو تو ملک وولایت حاصل ہو گی، اگر غیر شادی شدہ ہے تو شادی ہوگی، بیمار ہے تو تندرست ہو گی، فاسق ہے تو تائب ہو گا، گمراہ ہے تو ہدایت ملے گی۔
(26) اگر خواب میں کوئی مردہ کسی شہر میں دیکھا گیا ہے تو ممکن ہے کہ وہ مردہ جنت میں ہو جیسا کہ اگر مردہ کسی دیہات میں دیکھا جائے تو یہ اس کے جہنم میں ہونے کی دلیل ہوتا ہے کیونکہ دیہاتی لوگ تعب وشقاوت کا شکار ہوتے ہیں۔
(27) اگر کسی شہر کا اچھا نام ہو جیسے شہر صنعاء تو یہ صنعت کاری کی دلیل ہے یا شہر ظفار دشمن پر ظفر یابی کی علامت ہے اور شہر سر سرور کی دلیل ہے۔
(28) اگر باغیہ شہر سے نکلا ہے تو ظلم وجور چھوڑے گا۔
(29) مشہور شہر کے دروازے اس شہر کے حکام متولی اور پہرے داروں پر دلالت کرتے ہیں۔
(30) جو دیکھے کہ وہ کسی نامعلوم شہر میں ہے تو یہ نیک لوگوں کی علامت ہے۔
(31) جو خواب میں شہر کی فصیل گری ہوئی دیکھے تو اس کا گورنر وفات پائے گا یا اپنے عہدے سے معزول ہو گا۔
(32) خواب دیکھا گویا کہ شہر کی فصیل میں رخنہ اور شگاف پڑ گیا ہے حتی کہ پھر اس شہر میں شیر یا سیلاب یا چور ڈاکو داخل ہو گئے ہیں تو اس شہر میں اسلام کا حکم کمزور ہو گا یا علم کا بازار ویران اور اجڑے گا۔
خواب میں روم شہر دیکھنے کی تعبیر
خواب میں اس سے مراد اپنے ارادہ کا پورا ہونا ہے۔ کبھی اس کے دیکھنے سے مراد فتح اور شکست بھی ہوتی ہے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا : (الۤمۤ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِی اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِہمْ سَيَغْلِبُونَ فِی بِضْعِ سِنِينَ لِلَّہ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ)، (ترجمہ: روم والے شکست کھا گئے، چند سالوں میں مغلوبیت کے بعد وہ دوبارہ غالب آجا ئیں گے، اللہ ہی کے لیے پہلے اور بعد کا حکم ہے)۔